ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مرکزی حکومت کے عدم تعاون کے باوجود کرناٹک تمام محاذوں پر نمبر ون ریاست، حکومت نے عوام کے وعدوں کو دیانتداری سے نبھایا ہے: سدرامیا

مرکزی حکومت کے عدم تعاون کے باوجود کرناٹک تمام محاذوں پر نمبر ون ریاست، حکومت نے عوام کے وعدوں کو دیانتداری سے نبھایا ہے: سدرامیا

Sat, 17 Mar 2018 23:30:17    S.O. News Service

بنگلورو،17؍مارچ(ایس او نیوز) مرکزی حکومت کے عدم تعاون کے باوجود کرناٹک نے مختلف شعبوں میں ترقی کرکے ملک میں اولین مقام حاصل کیا ہے، یہ بات کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدرامیا نے آج دہلی میں کانگریس سے پلینری سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ انہوں نے کہا کہ  ریاست کے تمام طبقات کی فلاح وبہبود ی کیلئے حکومت کی طرف سے اپنائی گئی اسکیموں کا تذکرہ کیا  انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ملک کو درپیش کسانوں ،نوجوانوں ، خواتین اور اقلیتوں کے بنیادی مسائل کو نظر انداز کردیا ہے۔ بے روزگاری روز مرہ کا معمول بنتی جارہی ہے۔ صدر کانگریس راہول گاندھی کو ملک کے نوجوانوں کیلئے امید کی کرن قرار دیتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ راہول گاندھی اپنے من کی نہیں کرتے بلکہ لوگوں کے دلوں کی باتیں سنتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پچھلے انتخابات میں کانگریس پارٹی نے کرناٹک کے عوام سے 165وعدے کئے تھے، جن میں سے158 کو نبھایا جاچکا ہے۔ شہری علاقوں میں بھوک کے خاتمہ کیلئے 400 اندرا کینٹین کھولے گئے ہیں ، اس کے علاوہ انا بھاگیہ ، کسانوں کے قرضوں کی معافی ، دوپہر کے کھانے کی اسکیم وغیرہ مثالی طریقے سے لاگو کئے جارہے ہیں۔ ریاست کی چار کروڑ آبادی کو انا بھاگیہ اسکیم کے تحت ہر فرد کو ماہانہ سات کلو اناج مفت دیا جارہاہے۔ سدرامیا نے کہاکہ لوگوں میں عموماً یہ تاثر ہوتا ہے کہ سیاست دان اپنے وعدوں کے پکے نہیں ہوتے، لیکن حکومت کرناٹک نے جس طرح وعدوں پر عمل کیا ہے وہ سارے ملک کیلئے مثال ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک فلاحی ریاست کے خواب کو پورا کرنے کیلئے حکومت نے کوئی کسر باقی نہیں  رکھی۔ اسکولی بچوں کو دودھ کی فراہمی کیلئے کشیرا بھاگیہ ، ہاسٹلوں میں مقیم طلبا کی مدد کیلئے ودیا شری ، طلبا کیلئے مفت لیاب ٹاپ اور غریب گھروں کیلئے انیل بھاگیہ اسکیم کے تحت مفت ایل پی جی کی فراہمی حکومت کی طرف سے کی جارہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ریاست میں روزگار کے مواقع دن بہ دن بڑھ رہے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو مدعو کرنے میں کرناٹک ملک کی تمام ریاستوں سے آگے ہے۔ ریشم کے مرکز سے لے کر وادئ سیلیکان اور ملک میں آئی ٹی بی ٹی کی راجدھانی کے سفر کوآگے بڑھاتے ہوئے بنگلور نے ملک میں اسٹاراپ صنعتوں کی راجدھانی کا مقام بھی حاصل کرلیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ درج فہرست طلبا کی فلاح یقینی بنانے کیلئے سب پلان اپنایا ہے۔ انسداد توہم پرستی قانون ریاست میں منظور کیاگیا۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران ریاست کی ترقی کیلئے ایک مخصوص ماڈل اپنا کر کام کیا جارہاہے۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہا کہ ملک اقتصادی چیلنجوں سے دوچار ہے ۔ متحدہ ترقی پسند اتحاد کی حکومت میں ملک کی جی ڈی پی کی شرح ساڑھے سات فیصد تھی جس میں آج زبردست کمی آئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ عوام کے مفاد کی بات کی ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوگوں سے صرف وعدے کئے ہیں۔ ان وعدوں کو پورا کرنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا ہے ۔حکومت کسانوں اور بے روزگاروں کی فکر نہیں کررہی ہے ۔محترمہ دیپاداس نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین( ای وی ایم) کو بدل کر پرانے بیلٹ نظام کی بنیاد پر ووٹنگ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ای وی ایم سے انتخابی عمل پر ان کو پوری طرح شبہ ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ای وی ایم ہٹاؤ اور پرانا بیلٹ نظام لاؤکانعرہ کانگریس کو بلند کرنا چاہئے ۔کچھ لوگ سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ دیتے ہیں لیکن حکومت کرناٹک نے اسے عملی طور پر کردکھا یا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ پچھلے کچھ عرصے میں کانگریس کو سیاسی پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے ، لیکن اس سے دلبرداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ماضی میں بھی ایسے مواقع آئے ہیں لیکن ہر بار قدم پیچھے ہٹانے کے بعد کانگریس نے اور جوش وخروش کے ساتھ کام کیا ہے۔ راہول گاندھی کی قیادت میں کانگریس پارٹی اسی جوش وخروش کے ساتھ آگے بڑھے گی اور ملک کے کمزور طبقات غریبوں ، کسانوں ، مزدوروں ، دلتوں ، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کی آواز بن کر کام کرتی رہے گی۔


Share: